حج کی حقیت اور اس کا کردار
حج کی حقیقت اور اس کا کردار حج اسلام کا چوتھا رکن ہے اور انسان کی بندگی اورعبادت کا پہلا اور قدیم طریقہ ہے اس کے لفظی معنیٰ ”قصد اور ارادہ“ کے ہیں حج کے موقع پر دنیا بھر کے مسلمان مکہ میں جمع هوتے ہیں، یہ سب حضرت ابرہیم علیہ السلام کے بیٹے ہیں جو اپنے باپ ابراہیم علیہ السلام کے عہد سے لے کر اب تک زمان ومکان کی پابندیوں سے بالا تر ہوکر ایک مشترک بنیاد پر جمع ہوکر حج ادا کرتے ہیں حج کی حقیقت: حج کی حقیت رب کی رحمتوں اور برکتوں کے مرکز خاص میں حاضری،حضرت ابرہیم علیہ السلام کی طرح دعوت پر ”لبیک“کہنا اور اس عظیم الشان قربانی کی روح کو زندہ کرنا ہے ۔ یعنی حضرت ابراہیم واسماعیل علیھما السلام کی پیروی میں اللّہ تعالی کے حکم کے سامنے تسلیم ورضا اور فرمانبرداری اور اطاعت گزاری کے ساتھ اپنی گرد جھکا دینا اور اس معاہدے کو اسی طرح بجالانا جس طرح وہ ہزاروں برس پہلے بجالائے تھے۔ یہی ملت ابراہیمی اور روح اسلام ہے۔ جس کو حاجی ان مقدس اعمال اور قدیم دستوروں کے مطابق حج میں اپنے عمل اور کیفیت کو مجسم کرکے ظاہر کرتے ہیں۔ انہی کی طرح بن سلے اور سادہ کپڑے پہنتے ہیں۔ مقررہ دنوں تک سر کے بال نکا...
ماشاء اللہ
جواب دیںحذف کریں